Saturday, September 22, 2012


خرابہ 


"MAN WAS NOT FORMED TO LIVE ALONE"

با ئرن کی ایک خوبصورت نظم کا مصرع دہراتے ہوئے 
نور نے کہا --
شاہینہ آپی !!
آپ شادی کیوں نہیں کر لیتیں ؟؟؟ 
انسان تنہا رہنے کے لئے تخلیق نہیں کیا گیا تھا. 
................
شاہینہ کو لگا جیسے اسکی شاخوں سے سارے پتے یکبیک اتر گئے ہوں.
اسکی سانسوں میں ڈھیر سارے دھاگے الجھ گئے. اسے نور کا بے ساختہ پن 
اچھا نہیں لگا مگر وہ اخلاقاً مسکرا دی. 
کہتی بھی کیا ......
'اسے کسی ریت کے ٹیلے سے عشق ہے جو اپنی جگہ تبدیل کرتا رہتا ہے'
                                                             ........................
پھر ایک ثانیہ بعد اپنے اندر گرتی ہوئی ایک دیوار  
سبھالتے ہوئے بولی --
نور تم نے ایلیٹ کو پڑھا ہے ؟
وہ میرا محبوب شاعرہے
'I AM HIS 'THE WASTE LAND'
میں اسکا خرابہ ہوں. 

By-
Parveen Qamar


No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.