Saturday, September 22, 2012


مجذوب 


اسے دم توڑتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تھا. 
صبح تک آوارہ کتوں نے اس کی نعش کی حفاظت کی تھی.
                                                     .....................
ہم نے جب اسے پہلی بار دیکھا تھا تو سگان شہر کا ایک دربار منعقد تھا. 
دھول میں لپٹا ہوا ایک سایہ ٹوٹی ہوی دیوار کے سہارے نیم دراز تھا. 
سڑک پر آوازوں کا ایک دریا بہتا چلا جا رہا تھا
 مگر وہ اپنے اسالیب میں کتوں سے مخاطب تھا. 
انسانوں کیلئے اس کے مکالمے مفہوم کھو چکے تھے. 

کہتے ہیں اسے اصحاب دنیا سے کوئی لگاوٹ تھی نہ دنیا سے. 
وہ کسی کو بھی اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتا تھا. کبھی کوئی آہٹ 
اسکے قریب آنے کا سا ہس بھی کرتی تو وہ اپنی ساری آگ اگل دیتا. 
پتھروں اور اینٹوں کی بارش شروع کر دیتا. 
............................
اسکی موت کی خبر پھیلتے ہی بن کہے فریموں سے تصویریں ،
در و دیوار سے پرچھائیاں باہر نکل آئین. سڑک پر آوازوں کا جمگھٹ بڑھنے لگا. 
اور جب اسکی ہذیان گوئی کو لا تعداد معانی دئے جانے لگے .........
مرنے والے کو زندہ رکھنے کے منصوبے بناۓ جانے لگے تو ایک ایک کرکے 
سارے کتے غایب ہو گۓ. 

By-
Parveen Qamar


No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.